باب ت

تبدیلئ جنس

سوال # 1:
آيۃ الله خمينیؒ نے جنس کی تبدیلی کی اجازت کا فتوی ديا تھا، یعنی ایک مرد عورت بن سکتا ہے اور ایک عورت مرد بن سکتی ہے؟ اس بارے میں آپ کی کیا راۓ ہے؟ کیا اس عمل کی اجازت ہے؟
جواب:
مجھے سرکارِ موصوف کے اس فتویٰ کا کوئی علم نہیں ہے۔ اور دوسرےعلماء و فقہاء اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے اور نہ ہی ہمارے نزدیک ایسا کرنا شرعا” صحیح ہے۔ یہ بات تغير خلق الله کے زمرے میں آتی ہے جو ابلیس کی سعئِ نافرجام کا نتیجہ ہے۔ وليغيرن خلق الله

تشھد


سوال # 1:
میرا سوال یہ ہے کہ جب ہمیں کہا گیا ہے کہ “شہادات” (دو سے زیادہ شہادتوں) پر قائم رہیں تو ہم تشہد میں صرف دو شہادتوں پر ہی کیوں رک جاتے ہیں؟ جبکہ علامہ تقی مجلسی، علامہ باقر مجلسی، علامہ شیخ صدوق کی درج کردہ کئی روایات میں، اور کئی تفاسیر (مثلا” تفسیرِ عیاشی) اور دیگر کئی کتب میں ہم دیکھتے ہیں کہ ائمہؑ “شہادات” پڑھا کرتے تھے۔
براۓ مہربانی واضح فرمائیں کہ تشہد میں دو سے زیادہ شہادتیں پڑھی جائیں یا دو پر رک جایا جاۓ؟
جواب:
یہ سوال غیر ذمےدار بلکہ بےلگام اور جاہل مقررین کی تفسیر بالرائے پر مبنی تقریروں کا نتیجہ ہے، ورنہ آیۃ مبارکہ
وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (المعارج ٣٣)
“اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں”
کا نماز یا اسکے تشہد سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں خداوندِ عالم اہلِ ایمان کی یہ تعریف کر رہا ہے کہ اگر وہ کسی موقعے کے شاہد (گواہ) ہوں تو وہ اپنی شہادتوں (گواہیوں) پر قائم رہتے ہیں اور دنیا کا کوئی طمع و لالچ یا دنیا کا کوئی خوف و ہراس ان کو گواہی سے منحرف نہیں کر سکتا کیونکہ شہادت کی ادائیگی واجب ہوتی ہے اور اس کا چھپانا گناہِ کبیرہ ہے۔
اور تفسیرِ عیاشی ہو یا حضرت شیخ صدوقؒ ہوں یا دوسرے علماۓ اعلام کسی بھی تحریر سے ائمۂ اہلبیت (علیہم السلام) کا نماز میں شہادتِ ثالثہ پڑھنا ثابت نہیں ہے، یہ سب حوالے بوگس ہیں۔ نماز کے تشہد میں صرف دو شہادتیں واجب ہیں یعنی شہادتِ توحید و رسالت و بس اور درود شریف میں پورے چہاردہ معصومینؑ داخل ہیں۔
سوال # 2:
کیا نماز میں “علیؑ ولی اللہ” پڑھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟
جواب:
نماز کے تشہد میں شہادتِ ثالثہ تمام فقہاۓ شیعہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ کیونکہ نماز ایک توقیفی عبادت ہے جس کے اجزاء و شرائط کا دارومدار نبیؐ و امامؑ کی اجازت پر منحصر ہے۔ و بس۔

تقلید


سوال # 1:
میں تقلید کے بارے میں سوال پوچھنا چاہتا ہوں، کیا یہ اجتہادی مسئلہ ہے یا تقلیدی؟
جواب:
یہ اجتہادی مسئلہ ہے نہ کہ تقلیدی کیونکہ تقلید میں تقلید کرنا جائز نہیں ہے۔ انسان فطرۃً مدنی الطبع واقع ہوا ہے ہر ہر معاملے میں دوسرے بنی نوع کے تعاون کا محتاج ہے۔ اگر بیمار ہو جاۓ تو ڈاکٹر کا محتاج، مقدمہ لڑنا چاہے تو وکیل کا محتاج، اگر کپڑا سلوانا چاہے تو درزی کا محتاج، اور اگر مکان بنوانا ہو تو مستری کا محتاج تو اگر آدمی خود عالمِ دین نہ ہو اور دین پر عمل کرنا ہو تو کیا وہ عالمِ دین کی طرف رجوع کرنے کا محتاج نہیں ہوگا؟ جب آدمی اس بارے میں جدوجہد اور غور و فکر کرے گا تو یقیناً اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ہاں وہ ضرور محتاج ہے۔ اسی کا نام تقلید ہے! یعنی رجوع الجاهل الى العالم (جاہل کا عالم سے رجوع کرنا۔)
قال أبي محمد الحسن بن علي العسكري عليه السلام: أما من كان من الفقهاء صائنا لنفسه، حافظا لدينه، مخالفا على هواه، مطيعا لأمر مولاه ، فللعوام أن يقلدوه
امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: “فقہاء میں سے جو شخص اپنے نفس کو بچانے والا، اپنے دین کی حفاظت کرنے والا، اپنی خواہشات کی مخالفت کرنے والا، اپنے مولا کے حکم کی اطاعت کرنے والا ہو، عوام کو اس کی تقلید کرنا چاہیے۔”
(الاحتجاج الطبرسی ج2 ص263، وغیرہ)
ایسے ہی شخص کو “مجتہد جامع الشرائط” کہا جاتا ہے۔
فورد التوقيع بخط مولانا صاحب الزمان عليه السلام…وأما الحوادث الواقعة فارجعوا فيها إلى رواة حديثنا فإنهم حجتي عليكم وأنا حجة الله
مولا امامِ زمانہ علیہ السلام نے اپنی توقیعِ مبارک میں فرمایا: “میرے بعد پیش آنے والے واقعات میں ہمارے حدیث کے عالموں کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں خدا کی طرف سے حجت ہوں۔”

(الاحتجاج الطبرسی ج2 ص283 ، وغیرہ)

آیت اللہ محمد حسین نجفی حفظہ اللہ سے بذریعہ فیس بک پوچھے گئے سوالات کے جوابات :


سوال نمبر 1 : 1 .رسول اللہ ﷺ کے دنیاوی خلفاء کو کیوں نہیں مانتے ؟؟ جبکہ امام کا نائب ایک غیر معصُوم کو مان کر ” ولی الامر المسلمین بھی مانتے ھو ؟؟ یہ کیا تضاد ھے ؟ رسول کا نائب غیر معصُوم نہیں ھوسکتا تو امام کا نائب غیر معصُوم کیسے ھوسکتا ھے ؟؟ ”
جواب : باسمہ سبحانہ !
اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک خلافت و امامت نصی ہے نہ اجماعی نہ شوارئی یعنی ہم اس شخص کو خلیفۃ النبی ص اور امام مانتے ہیں جس کا انتخاب اللہ نے کیا ہو اور اعلان مصطفیٰ ص نے کیا ہو ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جو نبی کا خلیفہ یا لوگوں کا امام ہوتا ہے وہ نبی کے تمام علمی و عملی مراتب و کمالات کا حامل ہوتا ہے جن میں عصمت بھی داخل ہے لیکن غیبت کبریٰ کے دور میں علماء اعلام کی نیابت جزئی ہے یعنی صرف مسائل شرعیہ بیان کرنے میں نائب امام ہوتے ہیں اس لیے ان میں عصمت کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔
سوال : 2 – جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو ” اپنے جیسا ” کہتے ھیں انکو بُرا کیوں سمجھتے اور کہتے ھو ؟ جبکہ تمہارے مجتہد بھی خود کو ” آئیت اللہ ، حجّت الاسلام ، ولی الامر ، اھل الذکر ، انبیاء کے وارث کہتے ھیں ؟؟ یعنی یہ کہتے ھیں کہ ” ھم ان جیسے ھیں ؟ ” تو پھر انکو اچھا اور انکو برا کیوں ؟؟ یہ کیا تضاد ھے ؟؟
جواب : باسمہ سبحانہ !
جو لوگ پیغمبر اسلام ص کو اپنے جیسا بشر کہتے ہیں ان کی مراد یہ ہے کہ وہ نوع انسانی کے فرد کامل ہیں یعنی نہ فرشتہ ہیں اور نہ جن ہیں انکی مراد قطعاً یہ نہیں کہ وہ سب حالات و صفات میں ہم جیسے ہیں ( العیاذ باللہ ) ۔
وہ معصوم ہیں اور عام لوگ غیر معصوم اور گناہ گار ہیں وہ عالم علم لدنی ہیں اور عام لوگ جاہل اس ے واضح ہوا کہ علماء کا وارث انبیاء ہونا جزئی ہے یعنی وہ صرف احکام شریعت بیان کرنے میں وارث انبیاء ہیں نہ کہ تمام حالات و صفات میں ۔ لہذا اس میں کوئی تضاد نہیں ہے یہ معترض کی کج فہمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
سوال نمبر : 3 – اذان و اقامت میں بقول تمہارے ” علیُُ ولی اللہ ” پڑھنا صرف ” مُستحب ” ھے تو پھر اسکو اپنی اذان سے ہٹا کر باقی مسلمانوں سے کیوں نہیں مل جاتے ؟؟ آخر اتحاد بین المسلمین کیلیئے اتنا بھی نہیں کرسکتے ؟؟
جواب : باسمہ سبحانہ ! اذان و اقامت میں شہادت ثالثہ مستحب بھی نہیں ہے اور جو علماء جواز کے قائل ہیں وہ بھی محض تبرک و تیمن کی نیت سے کہتے ہیں ۔
لیکن اذان میں اور بھی تو فرق ہیں وہ حی علی خیر العمل نہیں کہتے جبکہ ہم کہتے ہیں ۔
عزیزم ! آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ اتحاد اور ہوتا ہے اور ادغام اور ہوتا ہے ۔ اتحاد یہ رہے کہ شیعہ شیعہ ہے اور سنی ، سنی ۔ ایک دوسرے کو برداشت کریں موسیٰ بدین خود عیسیٰ بدین خود ۔ اسلام رواداری اور بردباری کا دین ہے لڑائی بھڑائی کا دین نہیں ہے لکم دینکم و لی دین ۔
اور ادغام یہ ہے کہ ایک آدمی اپنا مذہب چھوڑ کر دوسرے کا مذہب قبول کر لے یہ ادغام ہے اتحاد نہیں ۔
سوال :4 اغیّار کہتے ھیں ” سب صحابی ستارے ھیں کسی کی بھی پیروی کرو فلاح پاؤ گے ” تو نہیں مانتے لیکن اپنے مجتہدوں کے اختلاف کے باوجود انکے فتوؤں پر یہ سوچ کر عمل کرتے ھو کہ ” کسی بھی مجتہد کی پیروی کرو گے تو فلاح پاؤ گے ؟؟ کیا فرق ھے ان میں اور تم میں ؟؟
جواب : باسمہ سبحانہ !
برادران اسلامی اس سلسلہ میں جو حدیث پیش کرتے ہیں ” اصحابی کالنجوم۔۔۔۔۔۔ الخ ” یہ حدیث ان کے علماء درایۃ الحدیث کے نزدیک موضوع ( جعلی ) ہے ملاحظۃ ہو موضوعات کبیر وغیرہ کتب دراۃ الحدیث ۔ اور ہمارے ہاں علماء کرام و فقہاء عظام کا اختلاف علیم و فہم کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ کے کلام اور معصوم کے فرمان میں کوئ اختلاف نہیں ہے ۔
ع ۔ ہر کس بقدر فہمش فہمید مدعا را ۔
سوال : 5 – تقلید بقول تمہارے واجب ہے تو پھر مردے کو دفن کرتے وقت جس بیچارے نے زندگی بھر جس مجتہد کی توضیح المسائل پر عمل کیا اسکو یاد دہانی ” تلقین میں کیوں نہیں کرواتے کہ آخر کو وہ ذمہ دار ہے اسکے اعمال کا جو مرنے والے نے اسکے فتوؤں کے مطابق سرانجام دیئے ؟؟ ”
جواب : باسمہ سبحانہ ! تلقین میں صرف بعض اصولی باتوں کی تلقین کی جاتی ہے جیسے ” من ربک ، من نبیک ، من امامک ۔۔۔۔الخ ” فروعی چیزوں کی تلقین نہیں کی جاتی جیسے نماز روزہ وغیرہ اور واضح ہے کہ تقلید فروعی مسئلہ ہے ۔ لہٰذا اس کا تذکرہ تلقین میں ضروری نہیں ہے ۔
سوال : 6 ۔ کیا تمہارا مجتہد تم کو جانتا اور پہچانتا ہے کیونکہ جب محشر میں اس کی ضرورت پڑے گی تو اگر اس نے قسم کھا لی کہ تمہیں اس نے زندگی میں کبھی دیکھا ہی نہیں تو کیا کرو گے ۔ ؟
جواب : باسمہ سبحانہ ! لوگوں پر نبی و امام کی معرفت واجب ہے کیونکہ ” من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاہلیۃ ” نبی و امام پر ہر شخص کی معرفت لازم نہیں ہے اسی لیے ہر شخص پر اپنے مجتہد کی معرفت لازم ہے مگر مجتہد پر اپنے مقلدین کی معرفت ضروری نہیں ہے ۔ کما ہو واضح من ان یخفیٰ ۔
سوال :7 ۔ اپنے مجتہد سے کوئی پروانہ لکھوایا ہے کہ جس پر تحریر ہو کہ “۔۔۔۔ میں فلاں مجتہد تصدیق کرتا ہوں کہ یہ شخص میرا مقلد ہے اور جو یہ اعمال میرے فتویٰ کے مطابق کرے گا اس کا ذمہ دار ہوں ۔۔۔” نہیں لکھوایا تو کیوں ؟ آخر زمانہ خراب ہے بھئی ۔۔۔ لکھ پڑھ اچھی چیز ہوتی ہے نا؟
جواب : ۔ باسمہ سبحانہ ! کیا کوئی امتی اپنے نبی سے اور کیا کوئی غلام اپنے امام سے لکھواتا ہے ہے کہ یہ میرا امتی ہے یا یہ میرا غلام ہے اور میں اس کی نجات کا ضامن ہوں ؟ تو جب کوئی امتی پنے نبی سے اور کوئی غلام اپنے امام سے یہ نہیں لکھواتا تو مقلد کیوں اپنے مجتہد سے یہ تحریر لکھوائے گا ۔ فما لکم کیف تحکمون ؟
سوال : 8 ۔ تقلید واجب ہے تو بتاؤ قبر یا حشر میں کسی معصوم علیہ السلام نے بتایا ہو کہ قبر یا حشر میں ایک یہ سوال بھی ہو گا کہ ” من مجتہدک ؟ ” تمہارا مجتہد کون ہے ؟
جواب : باسمہ سبحانہ ! تقلید ایک فطری امر ہے ج طرح بیمار کسی ڈاکٹر کی طرف رجوع کرتا ہے ، مقدمہ لڑنے والا کسی وکیل کی خدمات حاصل کرتا ہے اسی طرح ایک جاہل دینی احکام معلوم کرنے لیے کسی مجتہد ( مستند عالم دین ) کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ یہ واجب لنفسہ نہیں ہے بلکہ لغیرہ ہے ۔ آخر تقلید ہے کیا ؟ رجوع الجاہل الی العالم ۔ یہ نہ کوئی پیری مریدی ہے اور نہ کوئی بیعت ہے لہذا جب تک کسی بندہ کی فطرت مسخ نہ ہو جائے اس وقت تک کوئی صحیح الفطرت انسان اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا ۔
سوال :9 ۔ اپنے مجتہد سے کوئی ثبوت مانگا کہ وہ واقعی نائب امام ہے بھی یا نہیں ؟ اگر مانگا تو کیا ملا ثبوت ؟ اور اگر نہیں مانگا تو کیوں نہیں مانگا ؟
جواب : ۔ باسمہ سبحانہ ! ڈاکٹر سے نہیں پوچھا جاتا کہ ڈاکٹر ہے یا نہیں ، نہ وکیل سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ وکیل ہے یا نہیں ۔ یہ بیمار کی ذمہ داری ہے کہ تحقیق کرے کہ جس سے وہ علاج کروا رہا ہے وہ ڈاکٹر ہے یا نہیں ۔ یا جس وکیل کو وہ اپنا وکیل بنا رہا ہے وہ قابل وکیل ہے یا نہیں ۔ لہٰذا یہ تحقیق مقلد کا کام ہے کہ مدعی اجتہاد کے اساتذۃ سے پوچھے یا اس کے اجازہائے اجتہاد دیکھ کر معلوم کرے کہ وہ مجتہد ہے یا کہ نہیں ۔
سوال نمبر10 : جب تم یہ کہتے ہو کہ تقلید واجب ہے اپنے سے اعلم کی کیوکہ اس کا علم زیادہ ہے تو پھر تمہارے چھوٹے مجتہد اس بڑے “ولی امر المسلمین ” کی تقلید کیوں نہیں کرتے ؟؟ یہ کیا بات ہوئی کہ اگر آُ خود علم حاصل کر سکتے تو آپ پر تقلید واجب نہیں ؟ جبکہ جو زیادہ علم والا ہے وہ ولی امر المسلمین سب نے مان لیا ؟ یہ کیا ولی امر ہے کہ جس کی اطاعت باقی مولویوں پر واجب نہیں ہے ؟
جواب : باسمہ سبحانہ ! تقلید میں مجتہد کا صرف جامع الشرائط فقیہ ہونا کافی ہے جن شرائط کی نشان دہی حضرت امام حسن عسکری ؑ نے اپنے ارشاد میں کرائی ہے جو احتجاج طبرسی اور بحار الانوار وغیرہ کتب معتبرہ میں مذکور ہے ” من کان من الفقہاء صائناً لنفسہ حافظاً لدینہ ۔۔۔۔الخ تقلید میں اعلم اور افقہ ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے میں نے اپنی فقہی کتاب قوانین الشریعہ فی فقہ الجعفریہ کی پہلی جلد میں اس موضوع پر بقدر ضرورت تبصرہ کر دیا ہے ۔
سوال : 11 ۔ قرآن میں آیت “اولی الامر ” کی تفسیر اغیار نے کرتے ہوئے کہا جو صاحب حکومت ہو وہ اولی الامر ہوتا ہے تمہارے مجتہدوں میں جس کے پاس حکومت ہے وہ باقی سب کا ولی امر المسلمین ہو گیا ؟ کیا فرق ہے تم میں اور ان میں ؟ وہ غلط اور تم صحیح کیسے ؟
جواب : باسمہ سبحانہ ! اجتہاد و تقلید میں کسی حکومت یا حکومتی عہدہ کی ضرورت نہیں ہے جس طرح نبوت اور امامت کے لیے کسی عہدہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ خالص شرعی مسئلہ ہے حکومت سے اس کا کوئی ربط نہیں ہے باقی سب نظریہ کی پیداوار ہے و بس ۔

 

تقلید و تلقین

سوال :
تقلید بقول تمہارے واجب ھے تو پھر مردے کو دفن کرتے وقت جس بیچارے نے زندگی بھر جس مجتہد کی توضیح المسائل پر عمل کیا اسکو  یاد دھانی ” تلقین میں کیوں نہیں کرواتے کہ آخر کو وہ ذمّہ دار ھے اسکے اعمال کا جو مرنے والے نے اسکے فتوؤں کے مطابق سرانجام دیئے ؟؟ ”
جواب : باسمہ سبحانہ ! تلقین  میں صرف بعض اصولی باتوں کی تلقین کی جاتی ہے جیسے ” من ربک ، من نبیک ، من امامک ۔۔۔۔الخ ” فروعی چیزوں کی تلقین نہیں کی جاتی جیسے نماز روزہ وغیرہ اور واضح ہے کہ تقلید فروعی مسئلہ ہے ۔ لہٰذا اس کا تذکرہ تلقین میں ضروری نہیں ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s