باب آ – الف

اجتہاد

سوال # 1:
میں تقلید کے بارے میں سوال پوچھنا چاہتا ہوں، کیا یہ اجتہادی مسئلہ ہے یا تقلیدی؟
جواب:
یہ اجتہادی مسئلہ ہے نہ کہ تقلیدی کیونکہ تقلید میں تقلید کرنا جائز نہیں ہے۔ انسان فطرۃً مدنی الطبع واقع ہوا ہے ہر ہر معاملے میں دوسرے بنی نوع کے تعاون کا محتاج ہے۔ اگر بیمار ہو جاۓ تو ڈاکٹر کا محتاج، مقدمہ لڑنا چاہے تو وکیل کا محتاج، اگر کپڑا سلوانا چاہے تو درزی کا محتاج، اور اگر مکان بنوانا ہو تو مستری کا محتاج تو اگر آدمی خود عالمِ دین نہ ہو اور دین پر عمل کرنا ہو تو کیا وہ عالمِ دین کی طرف رجوع کرنے کا محتاج نہیں ہوگا؟ جب آدمی اس بارے میں جدوجہد اور غور و فکر کرے گا تو یقیناً اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ہاں وہ ضرور محتاج ہے۔ اسی کا نام تقلید ہے! یعنی رجوع الجاهل الى العالم (جاہل کا عالم سے رجوع کرنا۔)
قال أبي محمد الحسن بن علي العسكري عليه السلام: أما من كان من الفقهاء صائنا لنفسه، حافظا لدينه، مخالفا على هواه، مطيعا لأمر مولاه ، فللعوام أن يقلدوه
امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: “فقہاء میں سے جو شخص اپنے نفس کو بچانے والا، اپنے دین کی حفاظت کرنے والا، اپنی خواہشات کی مخالفت کرنے والا، اپنے مولا کے حکم کی اطاعت کرنے والا ہو، عوام کو اس کی تقلید کرنا چاہیے۔”
(الاحتجاج الطبرسی ج2 ص263، وغیرہ)
ایسے ہی شخص کو “مجتہد جامع الشرائط” کہا جاتا ہے۔
فورد التوقيع بخط مولانا صاحب الزمان عليه السلام…وأما الحوادث الواقعة فارجعوا فيها إلى رواة حديثنا فإنهم حجتي عليكم وأنا حجة الله
مولا امامِ زمانہ علیہ السلام نے اپنی توقیعِ مبارک میں فرمایا: “میرے بعد پیش آنے والے واقعات میں ہمارے حدیث کے عالموں کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں خدا کی طرف سے حجت ہوں۔”
(الاحتجاج الطبرسی ج2 ص283 ، وغیرہ)

اذان

سوال # 1:
آپ کی طرف سے اذان میں “علیؑ ولی اللہ” پڑھنا جائز کیوں نہیں؟
اگر ہم یہ نہیں پڑھتے تو ہم میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے؟
جواب:
تمام شیعی کتبِ حدیث و فقہ وغیرہ سے جو ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جو اذان خداوندِ عالم نے مقرر فرمائی اور بذریعۂ جبرئیلِ امینؑ پیغمرِ اسلامؐ تک پہنچائی اور جو آپؐ نے سب سے پہلے حضرت امیرؑ کو بتائی اور پھر آپؑ نے جناب بلالؓ کو تعلیم دی اور انہوں نے آنحضرتؐ کے آخری لمحاتِ حیات تک دی، وہ اٹھارہ فصول پر مشتمل تھی یعنی یہ جملہ شامل نہیں تھا اور یہی اذان حضرت امیرؑ سے لے کر بارہویں لعلِ ولایتؑ کی غیبتِ کبریٰ تک ائمۂ اہلبیتؑ نے دی اور دلوائی لہذا ہم بھی وہی دیتے ہیں۔
اور ہم میں اور دوسروں میں حي علی خیر العمل کا فرق کافی ہے کہ ہمارے نزدیک یہ جزوِ اذان ہے جبکہ دوسرے بھایئوں نے اسے اذان سے خارج کر دیا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s